17 دسمبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے کہاہے کہ تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ امریکی حکام کی باتوں پربھروسہ نہيں کیاجاسکتا۔

ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ نے  واشنگٹن کی جانب سے تہران کے ساتھ مذاکرات پرآمادگی ظاہرکئے جانے کے بارے میں بعض بیانات پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات پراسی وقت غورکیاجاسکتاہے جب برابری کاماحول ہو اور فریق مقابل کی سچائی ثابت ہولیکن فریق مقابل کی جانب سے دباؤ اوردشمنانہ رویے کاسلسلہ جاری رہنے  کی صورت میں براہ راست مذاکرات جیسے دعوؤں کاکوئی مطلب نہيں ہے ۔علی اکبرصالحی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مسائل کے حل کے لئے سب سے آسان اورکم خرچ راستہ مذاکرات ہيں کہاکہ ابھی تک ملت ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنانہ پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہيں دیکھی گئي ہے ۔ایران کے وزیرخارجہ نے  ایران کے فضائی حدود میں امریکی جاسوس طیاروں کی جارحیت ، یکطرفہ پابندیاں، اورایران کے سائنسدانوں کے قتل میں مدد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکی حکام کی آمادگی کے دعوے سچے نہيں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110